کرم فرما

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مہربان، شفیق (اظہار تپاک کے لیے)۔ "شناساؤں اور کرم فرماؤں میں کسی کی بھی دوستی کی عمر ان سے زیادہ طویل نظر نہیں آتی۔"      ( ١٩٧٤ء، معاصرین، ١٦٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'کرم' کے بعد فارسی مصدر 'فرمودن' کا فعل امر 'فرما' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٤ء کو "دیوانِ درد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مہربان، شفیق (اظہار تپاک کے لیے)۔ "شناساؤں اور کرم فرماؤں میں کسی کی بھی دوستی کی عمر ان سے زیادہ طویل نظر نہیں آتی۔"      ( ١٩٧٤ء، معاصرین، ١٦٣ )